اتوار، 19 مئی، 2019

کیا آدھے گلاس پانی سے وضو ہوجاتا ہے؟

*کیا آدھے گلاس پانی سے وضو ہوجاتا ہے؟*

سوال :

مفتی صاحب ایک ویڈیو آپ کو بھیجا ہوں دیکھ کر بتائیں کیا اس طرح وضو ہوجائے گا؟ جیسا کہ اس ویڈیو میں بتایا گیا ہے کہ اس شخص نے آدھے گلاس پانی میں وضو کرلیا ہے، یہ تو مسح کی صورت سمجھ آرہی ہے۔
(المستفتی : مولوی سفیان، مالیگاؤں)
----------------------------------------
بسم اللہ الرحمن الرحیم
الجواب وباللہ التوفيق : قرآنِ کریم میں اعضاء وضو کو دھونے کا حکم دیا گیا ہے اور شرعاً دھونے کا مفہوم اس وقت تک متحقق نہ ہوگا جب تک کہ کم از کم وضو کے عضو کو تر کرنے کے بعد اس سے دو قطرے نہ ٹپکیں، اگر اس قدر بھی تقاطر نہیں ہوا تو دھونے کا فرض ادا نہیں ہوگا۔ مثلاً کسی شخص نے برف وغیرہ سے ہاتھ پیر کو تر کرلیا اور کوئی قطرہ نہیں ٹپکا تو یہ کافی نہیں۔

آپ کی ارسال کردہ ویڈیو بغور دیکھنے کے بعد معلوم ہوا کہ اُن صاحب نے نصف گلاس پانی میں جو وضو کیا ہے وہ درست نہیں ہے، اس لئے کہ اس میں اعضاء وضو پر صرف پانی مَل لیا گیا ہے، اعضاء وضو سے پانی کے قطرات بالکل بھی ٹپکے نہیں ہیں، لہٰذا اگر کوئی اس طرح وضو کرلے تو اس کا وضو ہوگا ہی نہیں اور نہ ہی اس وضو سے پڑھی گئی نماز ہوگی۔

نوٹ : یہ ویڈیو سوشل میڈیا پر کافی دنوں سے گردش میں ہے، لہٰذا حتی الامکان اس کی تردید کرنا اور صحیح مسئلہ سے لوگوں کو آگاہ کرنا ہم سب کی شرعی ذمہ داری ہے۔

قَالَ اللہُ تَعَالٰی : یٰٓأَیُّہَا الَّذِیْنَ اٰمَنُوْا إِذَا قُمْتُمْ إِلیَ الصَّلوٰۃِ فَاغْسِلُوْا وُجُوْہَکُمْ وَأَیْدِیَکُمْ إِلیَ الْمَرَافِقِ وَامْسَحُوْا بِرُؤُوْسِکُمْ وَأَرْجُلَکُمْ إِلیَ الْکَعْبَیْنِ۔ (سورۃ المائدہ، آیت : ٦)

(غَسْلُ الْوَجْهِ) أَيْ إسَالَةُ الْمَاءِ مَعَ التَّقَاطُرِ وَلَوْ قَطْرَةً. وَفِي الْفَيْضِ أَقَلُّهُ قَطْرَتَانِ فِي الْأَصَحِّ (درمختار) وفی الشامی : يَدُلُّ عَلَيْهِ صِيغَةُ التَّفَاعُلِ. اهـ.ثُمَّ لَا يَخْفَى أَنَّ هَذَا بَيَانٌ لِلْفَرْضِ الَّذِي لَا يُجْزِئُ أَقَلُّ مِنْهُ؛ لِأَنَّهُ فِي صَدَدِ بَيَانِ الْغَسْلِ الْمَفْرُوضِ۔ (شامی : ١/٩٥)فقط
واللہ تعالٰی اعلم
محمد عامر عثمانی ملی
13 رمضان المبارک 1440

1 تبصرہ:

  1. لوگ بھی جہالت کی حد کو پہنچ چکے ہیں-ایسی چیزوں سے بہت جلدی متأثر ہوجاتے ہیں-

    جواب دیںحذف کریں